اس واقعے کے 30 برس بعد ایک امریکی ماہرِ طبیعیات جنھوں نے یہ بم تیار کرنے میں مدد کی تھی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا جس میں انھوں نے نہ صرف یہ بتایا کہ یہ بمباری کیوں نہیں روکی جا سکی تھی۔ انھوں نے مزید انکشاف کیا کہ مزید بم گرانے کا بھی منصوبہ تھا۔