ستمبر 1960 کی اُس صبح، باجوڑ کے سنگلاخ پہاڑوں کی ہوا میں تناؤ کی بُو تھی، جیسے کچھ بڑا ہونے والا ہو۔ صبح کی پہلی کرنیں نمودار ہوتے ہی بلند پہاڑوں کی خاموشی افغان توپ خانے کی اچانک گھن گرج سے ٹوٹ گئی۔
ستمبر 1960 کی اُس صبح، باجوڑ کے سنگلاخ پہاڑوں کی ہوا میں تناؤ کی بُو تھی، جیسے کچھ بڑا ہونے والا ہو۔ صبح کی پہلی کرنیں نمودار ہوتے ہی بلند پہاڑوں کی خاموشی افغان توپ خانے کی اچانک گھن گرج سے ٹوٹ گئی۔