طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہونے والے اپنے مقالے میں ڈاکٹروں نے لکھا ہے کہ ’یہ کیس گردے کی کلینیکل زینو ٹرانسپلانٹیشن سے وابستہ ممکنات یا امکانات اور چیلنجز، دونوں کو واضح کرتا ہے۔‘ ان کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی امید دلاتا ہے کہ مستقبل میں جانوروں کے اعضا انسانی مریضوں کے لیے عارضی یا مستقل علاج کا ذریعہ بن سکتے ہیں، تاہم اس شعبے میں اب بھی کئی سائنسی اور طبی سوالات کے جواب تلاش کرنا باقی ہیں۔