اگرچہ مصر نے سرکاری طور پر ’مکہ معاہدے‘ میں شمولیت یا عدم شمولیت سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے مگر قاہرہ کو تشویش ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ اِسے یمن کے حوثی جنگجوؤں اور عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی میں لا سکتا ہے، اور اس معاہدے کا حصہ بننے سے اس کی علاقائی ثالث کی حیثیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔