مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب پاکستان اور ترکی پہلے ہی مکہ معاہدے کے رکن ہیں، تو قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی صنعت کے لیے ایک الگ فریم ورک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ماضی میں پاکستان اور ترکی یہ عندیہ بھی دیتے رہے ہیں کہ مستقبل میں مزید ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس نئے فریم ورک میں بھی نئے مماک کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ تاہم سعودی عرب نے تاحال بدر مفاہمتی یادداشت پر کوئی باضابطہ عوامی بیان جاری نہیں کیا۔