21 مارچ 1985 کی رات تک کسی کے سان گمان میں بھی نہیں تھا کہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سندھڑی سے تعلق رکھنے والے منکسر المزاج زمیندار محمد خان جونیجو، جنھیں ان کے سیاسی پیشوا پیر پگارا سابق وزیر ریلوے ہونے کے باعث پیار سے ریلوے بابو کہا کرتے تھے، اچانک ملک کے وزیر اعظم بن جائیں گے