چینی صدر کے طرزِ عمل کو ایران میں بعض حلقوں نے سوچے سمجھے فاصلے کی علامت قرار دیا، جبکہ بیجنگ کی جانب سے ملاقات کے بارے میں کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہ ہونے سے بھی چین کی ترجیحات میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیوں کو تقویت ملی۔
چینی صدر کے طرزِ عمل کو ایران میں بعض حلقوں نے سوچے سمجھے فاصلے کی علامت قرار دیا، جبکہ بیجنگ کی جانب سے ملاقات کے بارے میں کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہ ہونے سے بھی چین کی ترجیحات میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیوں کو تقویت ملی۔